مَسَا لا
( مسالحہ ، مصالہ یا مصالحہ ہجہ غلط ہیں، اصل ہجہ مَسَالا ہیں )
لونگ، الائچی، دھنیا، مرچ وغیرہ جن سے کھانے کی لذت زیادہ ہو جاتی ہے۔ کھانے میں گرم مسالا ڈالنا، مسالے دار۔ مسالا ٹانکنا یعنی کپڑوں میں گوٹا کناری ٹانکنا۔
فارسی والے بطور مفرد ہر چیز کی تیاری کے لوازم اور ضروریات کے معنی میں استعمال کرتے ہیں اور یہی محل استعمال اُردو میں بھی ہے۔ جس طرح مسالا بولتے ہیں اسی طرح لکھا بھی جائے، اور یہی مَشرَب متوسطّین ومُتاخرین شعرائے لکھنو کا ہے۔ رشک نے اپنی لغت میں لکھا ہے :
مسالا ۔ ضروریات ہر چیز باشد کہ بداں ضروریات ۔ رونق و لذت آں چیز شود۔ ظاہرا اس لغت از مصالح باشد"۔
اسی کی تقلید جلال نے اپنی لغت گلشن فیض میں کی ہے۔ منیر مرحوم نے بھی یہی مَشرَب اختیار کیا ہے :
نمک چھڑکنے کو مانگے جراحت دل پر
جو دیکھے آپ کے مؤباف کا مسالا
جان صاحب کے شعر سے بھی پتہ چلتا ہے کہ محلات لکھنو میں بھی یہی بول چال تھی:
اے جان ایسا چھاتی سے لپٹایا بھنچ کر
انگیا کا میری سارا مسالا مسل گئی
{ نُوراللّغات – مولوی نورالحسن نیّر }
( یاد رہے مصالح عربی میں مصلحت کی جمع ہے۔)
